اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران میں برازیل کے پارلیمانی کمیشن برائے خارجہ امور کے سربراہ فرنانڈو کولور سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا کہ ٹرمپ، یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ایٹمی معاہدے سے نکل جانے کی صورت میں ایران کی صورت حال درہم برھم ہو جائے گی۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ٹرمپ نے تاریخ کا اچھی طرح مطالعہ نہیں کیا ہے اور انہیں اس حوالے سے اچھے مشیروں سے مشاورت لینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران دوسری جنگ عظیم اور بیسویں صدی میں وجود میں آنے والا ملک نہیں بلکہ ہماری تاریخ، صدیوں پرانی ہے اور ہم اپنی مشکلات اندرون خانہ حل کرنے کی توانائی رکھتے ہیں۔
برازیل کے پارلیمانی کمیشن برائے خارجہ امور کے سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ ٹرمپ، عالمی قوانین کا احترام نہیں کر رہے ہیں لہذا دنیا بھر کے ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کی منہ زوری اور دھونس کے مقابلے میں خاموش نہ رہیں۔
حکومت مخالف سعودی صحافی جمال خاشقجی قتل کیس کا ذکر کرتے ہوئے برازیل کے پارلیمانی کمیشن برائے خارجہ امور کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ نے ایک سو چالیس ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کے سودوں کی وجہ سے خاشقجی قتل کیس پر بھی چپ سادھ رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برازیل اور اس سے جیسے دوسرے ممالک، ایران کے ساتھ ہیں اور تہران کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دیتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲